دنیا

افغانستان: خواتین میزبانوں کو حجاب کے حکم پر مرد اینکرز نے اظہار یکجہتی کیلئے ماسک پہن لیا

افغانستان میں حکمراں طالبان کی جانب سے خواتین ٹی وی میزبانوں کو حجاب کرنے کے حکم پر مرد اینکرز نے اظہار یکجہتی کے لیے ماسک پہن لیے۔

افغانستان کی خبر ایجنسی طلوع کی رپورٹ کے مطابق طلوع نیوز کے مرد میزبانوں نے خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی کے لیے ماسک پہن کر نشریات کی۔

طلوع نیوز کے ڈائریکٹر خپلواک سپائی کا کہنا تھا کہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حکم پر عمل درآمد کے لیے اتوار کا دن مقرر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس حکم پر بتائے گئے وقت تک عمل درآمد کا کہا گیا تھا اور ہم نے آج ایسا ہی کردیا لیکن ہمارا مؤقف وہی ہے، پہلی بات یہ ہے کہ امارات اسلامی کی قیادت کی جانب سے حجاب سے متعلق حال ہی میں جاری کیے گئے ہدایت میں ٹی وی پروگرامز میں خواتین میزبانوں کو چہرہ چھپانے کے لیے واضح اشارہ نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دوسری بات یہ ہے کہ ٹی وی پر خواتین میزبانوں کی تصاویر نقلی (ورچوئل) ہیں اور اصلی (ایکچوئل) نہیں ہیں، اسی لیے طلوع نیوز اس معاملے پر اپنے اس مؤقف پر کھڑا ہے’۔

طلوع نیوز کی خاتون میزبان خاطرہ احمدی کا کہنا تھا کہ ‘میں صحیح طرح سانس بھی نہیں لے سکتی اور بات بھی نہیں کر سکتی، تو میں پروگرام کیسے چلا سکتی ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس حکم پر بتائے گئے وقت تک عمل درآمد کا کہا گیا تھا اور ہم نے آج ایسا ہی کردیا لیکن ہمارا مؤقف وہی ہے، پہلی بات یہ ہے کہ امارات اسلامی کی قیادت کی جانب سے حجاب سے متعلق حال ہی میں جاری کیے گئے ہدایت میں ٹی وی پروگرامز میں خواتین میزبانوں کو چہرہ چھپانے کے لیے واضح اشارہ نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دوسری بات یہ ہے کہ ٹی وی پر خواتین میزبانوں کی تصاویر نقلی (ورچوئل) ہیں اور اصلی (ایکچوئل) نہیں ہیں، اسی لیے طلوع نیوز اس معاملے پر اپنے اس مؤقف پر کھڑا ہے’۔

طلوع نیوز کی خاتون میزبان خاطرہ احمدی کا کہنا تھا کہ ‘میں صحیح طرح سانس بھی نہیں لے سکتی اور بات بھی نہیں کر سکتی، تو میں پروگرام کیسے چلا سکتی ہوں’۔

دوسری خاتون اینکر سونیا نیازی کا کہنا تھا کہ ‘میں ذہنی اور اخلاقی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی جس کے لیے ہمیں مجبور کیا گیا، ماسک کے ساتھ 3 گھنٹے کا پروگرام چلانا بہت مشکل ہے’۔

سیاسی تجزیہ کار سونیا پیکان کا کہنا تھا کہ ‘بدقسمتی سے افغان خواتین پر اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے سے ملک پر اثر پڑے گا’۔

وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے بیان میں کہا کہ حجاب پر عمل درآمد ضروری ہے۔

وزارت کے ترجمان عاکف مہاجر کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہمارے الفاظ نہیں ہیں، یہ خدا کا حکم ہے، چہرے کو چھپانا حجاب کا حصہ ہے لیکن اگر چہرہ نہیں چھپایا گیا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ حجاب پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ حجاب پر اچھی طرح عمل درآمد نہیں ہے جیسا کہ خواتین کے لیے کہا گیا ہے’۔

یاد رہے کہ افغانستان کے سپریم رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے رواں ماہ خواتین کے لیے نیا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت خواتین عوامی مقامات میں روایتی برقعے کے ساتھ چہرے سمیت اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں گی۔

وزارت برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ٹیلی ویژن میزبانوں کو اس کی پیروی کا حکم دیا ہے۔

ایک روز قبل جاری کردہ حکم کی خلاف ورزی کرنے کے بعد اتوار کو ٹیلی ویژن میزبانوں نے مکمل حجاب اور نقاب پہنا جس کے بعد طلوع نیوز، شمشاد ٹیلی ویژن، آریانا ٹیلی ویژن اور ون ٹی وی سمیت تمام چینلز پر میزبانوں کی آنکھوں کے علاوہ پورا چہرہ حجاب میں دکھائی دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
adana eskort - eskort adana - mersin eskort - eskort mersin - eskort - adana eskort bayan - eskort bayan adana - mersin eskort bayan