پاکستان

ملک بھر میں 16 ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کی شدت میں کمی کے پیش نظر پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں 16 ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شفقت محمود نے کہا ہے کہ مجھے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ 16 ستمبر سے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھل جائیں گے۔

ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کے دوران کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعلیمی ادارے این سی او سی کی سفارش پر گزشتہ دو ہفتے سے بند تھے۔

ادھر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن نے ملک میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کی شدت میں کمی کے پیش نظر پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق 16ستمبر سے ملک بھر کے تمام ادارے کھل جائیں گے لیکن صرف 50فیصد طلبا کو کلاسوں میں بلانے کی اجازت ہو گی، اس طرح ہفتے میں تین طلبا کو اسکول بلانے کی اجازت ہو گی۔

اس دوران روزانہ کی بنیاد پر این سی او سی میں بیماری کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا رہے گا اور ضرورت محسوس ہونے پر بیماری پر قابو پانے کے لیے اہم فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔

این سی او سی کے مطابق لاہور، فیصل آباد، ملتان گجرات، سرگودھا، اور بنوں سمیت جن اضلاع میں بیماریوں کا پھیلاؤ زیادہ ہے، وہاں 16 سے 22 ستمبر تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔

نئے اعلامیے کے مطابق جن اضلاع اور شہروں میں بیماری کا پھیلاؤ کم ہے وہاں کاروباری مراکز رات 10بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی جبکہ متاثرہ اضلاع اور شہروں میں ضروری اور اہم سہولیات کے علاوہ تمام کاروبار رات 8 تک بند کرنا ہو گا۔

اس کے علاوہ اب ہفتے میں صرف ایک دن کاروبار بند کرنا ہو گا البتہ متاثرہ علاقوں میں دو دن جمعہ اور ہفتہ کاروبار بند رکھنا ہو گا۔

ریسٹورنٹس میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور 50 فیصد گنجائش کے ساتھ رات 12 بجے تک کی اجازت دے دی گئی ہے اور صرف ان افراد کو اجازت ہو گی جو ویکسین لگوا چکے ہیں۔

البتہ جن علاقوں میں اب بھی بیمایر کا پھیلاؤ زیادہ ہے وہاں ان ڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی ہے جبکہ آؤٹ ڈور کی رات 12 بجے تک اجازت ہے۔

شادی ہال وغیرہ کے حوالے سے بھی نرمی کی گئی ہے اور ان دور شادیوں میں صرف ویکسین کرانے والے 200 افراد کو تقریب میں شرکت کی اجازت ہو گی البتہ آؤٹ ڈور شادی کی صورت میں 400مہمانوں کو مدعو کیا جا سکتا ہے۔

متاثرہ اضلاع اور شہروں میں ان ڈور شادی پر پابندی ہے جبکہ آؤٹ ڈور یں 400 مہمان بلا سکتے ہیں۔

متاثرہ اضلاع میں صرف 50فیصد عملے کو دفتر آ کر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس جن علاقوں میں وبا کا پھیلاؤ کم ہے وہاں 100فیصد افراد دفاتر آ کر کام کر سکتے ہیں۔

مزارات کے بارے میں ہدایت کی گئی ہے کہ صوبے اپنے علاقوں میں وبا کا جائزہ لے کر کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ کریں گے جبکہ متاثرہ شہروں میں مزارات پر پابندی ہو گی۔

اسی طرح کراٹے، باکسنگ، کبڈی، واٹر اسپورٹس پر پابندی برقرار ہے جبکہ ویکسینیٹڈ افراد کے ساتھ جمز کھلے رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ میں ریل گاڑی 70 فیصد مسافروں کے ساتھ چلائی جائے گی جبکہ ڈومیسٹک فلائٹس میں کھانے کی سروس بند رہے گی۔

پورے ملک میں عوام کے لیے ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ تفریحی پارکس، واٹر اسپورٹس اور سوئمنگ پولز 50 فیصد کی شرط کے ساتھ کھولنے کی اجازت ہو گی۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے آج کورونا وائرس کی چوتھی لہر کی شدت میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ 15 روز میں مزید بہتری آئے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ کورونا کے کیسز میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ باقی ہے، ہم نے ملک کے 24 اضلاع میں کیسز کی تعداد کے پیش نظر 4 سے 15 ستمبر تک زائد بندشیں عائد کی تھیں لیکن ان میں سے 18 اضلاع میں صورتحال بہت بہتر ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مذکورہ 18 اضلاع میں بھی کورونا سے متعلق پابندی قائم رہے گی جس طرح ملک کے دیگر حصوں میں نافذ ہیں جبکہ دیگر 6 اضلاع میں زائد بندشیں قائم رہیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button