البرٹا سرحد کے قریب برٹش کولمبیا قصبے کے میئر کا ماسک مینڈیٹ، ویکسین کارڈ ختم کرنے کا مطالبہ

البرٹا اور برٹش کولمبیا صوبوں کے کوویڈ-19 کے قوانین بالکل مختلف ہیں اور سرحد کے ساتھ ایک میئر کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بی .سی بھی ان قوانین پر نظر ثانی کرے۔
اسپارووڈ کے میئر ڈیوڈ ولکس نے سوموار کے دن کہا کہ عوامی اندرونی جگہوں پر ماسک پہننے کے مینڈیٹ پر عمل نہ کرنے اور ویکسینیشن کا ثبوت دکھانے کے لئے ہچکچانے والے زائرین میں حالیہ اضافہ ہوا ہے۔
برٹش کولمبیا میں اب بھی ویکسین ثبوت اور ماسک کی پابندی موجود ہے جبکہ البرٹا نے دونوں پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔
ولکس نے کہا کہ ہم یہ دیکھنا شروع کر رہے ہیں کہ لوگ ان قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں اور بغیر ماسک وغیرہ کے عمارتوں میں داخل ہوتے ہیں۔
لوگوں کی اکثریت کوویڈ کی پابندیوں سے تھکاوٹ کا شکار ہے اور وہ پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بی .سی کے وزیر صحت ایڈرین ڈکس نے کہا کہ صوبہ جمعرات کو اعلان کرے گا، اب صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ کم ہوا ہے۔
ڈکس نے کہا کہ آپ اس وبا پر نظر ڈالتے ہیں – بی .سی میں دیگر دائرہ اختیار کے مقابلے میں کم تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ اثر مثبت رہا ہے۔
"حال میں رہنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس ویکسین کارڈ موجود ہے۔ ہمارے پاس ماسک مینڈیٹ موجود ہے۔ "
برٹش کولمبیا میں ابھی بھی طویل مدتی نگہداشت گھروں میں ملاقات کی اہم پابندیاں عائد ہیں اور سرکاری اسکولوں میں بھی پابندیاں عائد ہیں۔
بی سی لبرل ایم ایل اے برائے پیس ریور ساؤتھ مائیک برنیئر نے کہا کہ ان کے حلقے غیر موافق قواعد سے تنگ آچکے ہیں اور وہ اس کی مزید مخصوص وجوہات جاننا چاہتے ہیں کہ بی .سی البرٹا سے کیوں مختلف ہے۔
برنیئر نے کہا”یہ اب ویکسین کے بارے میں نہیں ہے۔ مجھے ای میل کرنے والے لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ان کو ڈبل ویکسین لگائی جاچکی ہے، ممکنہ طور پر ٹرپل ویکسین بھی لگائی جاچکی ہے، یہ کہتے ہوئے،لوگ کہتے ہیں کہ ‘میرا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مجھے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ میں اپنی زندگی میں واپس جانا چاہتا ہوں، ۔




