کمیونٹی نیوزکینیڈا

اسلاموفوبیا پر اجلاس، ٹروڈو کے وفاقی اداروں سے مطالبات، ماہرین کی وفاق کی غیرجانبداری پر بے اعتباری

کینیڈا میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے تناظر میں بروز جمعرات وفاقی حکومت نے قومی سربراہ اجلاس منعقد کیا تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کی وجوہات پر کھل کر بحث کی جاۓ اور تجاویز پر ایک متفقہ روڈ میپ بنایا جاۓ جس سے مسلمان دشمنی کے واقعات کو مستقبل میں ختم کیا جاسکے۔

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے افتتاحی خطاب میں کینیڈا ریونیو ایجنسی (سی آر اے) اور وفاقی سیکورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کو "نشانہ” بنانے والے طریقوں کو بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کو اس مسئلے کے خاتمے میں مدد کے لئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، اداروں کو لوگوں کی حمایت کرنی چاہیے نہ کہ انہیں نشانہ بنانا چاہیے۔

اپنے خطاب کے دوران ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈینز کو کینیڈا کے لیے لڑنا چاہیے جہاں ہم تنوع کا جشن منائیں جہاں ہم اکٹھے کھڑے ہوں۔

انہوں نے لندن اور ہیملٹن میں ہونے والے حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کو (ہم آہنگی کے) وعدے پر پورا اترنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے کیونکہ بہت بار اور بہت سے لوگوں کے لیے یہ وعدہ توڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس ہفتے کے اوائل میں ہیملٹن میں ماں اور بیٹی سے ملاقات کی تھی۔

وزیراعظم نے وفاقی سلامتی اور ٹیکس ایجنسیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کو ختم کرنے کے لئے مزید کام کرنا چاہئے۔ ٹروڈو نے کہا کہ ‘کینیڈا ریونیو ایجنسی’ سے لے کر سیکورٹی اداروں تک اداروں کو لوگوں کی مدد کرنی چاہیے نہ کہ انہیں نشانہ بنانا چاہیے۔

وزیر تنوع باردیش چاگر نے کہا کہ یہ تقریب مسلمان کینیڈینز کے لئے اس بارے میں بصیرت دینے کا موقع ہوگا کہ حکومت اس طرح کے حملوں کو کیسے روک سکتی ہے اور اپنی کمیونٹیز کے تحفظ کے لئے پالیسیاں کیسے متعارف کرا سکتی ہے۔

اسلاموفوبیا پرقومی اجلاس سے ایک دن پہلے این ڈی پی کے رہنما جگمیت سنگھ نے کہا کہ اگرچہ یہ سربراہ اجلاس ایک اچھا خیال ہے لیکن لبرلز اسلاموفوبیا اور دیگر نسل پرستانہ نظریات میں اضافے کے خلاف کارروائی کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے حل ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم برسوں سے جانتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مسٹر ٹروڈو نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

سنگھ نے کہا کہ لبرلز کو آن لائن نفرت سے نمٹنے کے لئے مزید کوشش کرنی چاہئے اور سفید فام بالادست گروہوں کو ختم کرنے کے لئے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو مزید وسائل دینے چاہئیں۔

انور ایمان جو کہ یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں اسلامک سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں حکومتی دعوؤں اور کارکردگی سے کوئی خاص پرامید نظر نہیں آتے۔ حالیہ دنوں میں ‘سی آر اے’ اور ایک مسلم خیراتی ادارے کے درمیان ممکنہ قانونی جنگ کا تجزیہ کرتے ہوۓ اپنے ایک ارٹیکل میں انہوں نے لکھا ہے کہ:

"حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں ڈھانچہ جاتی امتیاز سے اسلاموفوبیا کے بیوروکریٹک کلچر کے سرکاری عہدیداروں کی روزمرہ اور عام سرگرمیوں میں پھوٹنے کے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اس ملک میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کی امید نہیں کر سکتے جب تک ہماری اپنی حکومت بغیر کسی نگرانی یا مناسب چیک اینڈ بیلنس کے اسے اتنی کھل کر اہل بناتی ہے۔”

ہیملٹن، اونٹاریو کے حملے میں متاثرہ عورت کے شوہر کمال گرگی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مذمت کی بجائے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جائے۔ ہم ٹھوس اقدامات چاہتے ہیں، ہم اس نفرت سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات چاہتے ہیں۔

گورگی کو امید ہے کہ یہ سربراہ اجلاس نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ تمام کمیونٹیز کو امتیازی سلوک روکنے کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات کی طرف راہنمائی کرے گا۔

گورگی نے کہا کہ ہمیں اس قسم کی نفرت، اس قسم کی عصبیت، اس طرح کے امتیازی سلوک کو روکنے پر عمل کرنا چاہئے۔

این سی سی ایم (نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز) نے ایک بیان جاری کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اسلاموفوبیا پر نیشنل ایکشن سمٹ کے بعد ہمارا بیان اس بات کا خلاصہ پیش کرتا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں نیشنل ایکشن سمٹ کے بعد کیا کیا گیا تھا اور کیا نہیں۔ اگرچہ کچھ اہم وعدے کیے گئے تھے لیکن ہر سطح پر بہت کچھ ہونے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ اسلاموفوبیا پر قومی اجلاس سے دو روز پہلے ہی این سی سی ایم نے کینیڈا میں اسلام دشمنی کے خاتمے کے لئے 61 تجاویز پیش کی تھیں اور اب دوبارہ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر حکام پر ان تجاویز پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button