دنیا

چین، چھوٹے ہمسایہ ممالک کے مقابلے اپنے بڑے حجم کا فائدہ نہیں اٹھائے گا، شی جن پنگ

شی جن پنگ نے کہا کہ چین کبھی تسلط نہیں کرے گا

بحیرہ جنوبی چین پر بڑھتی کشیدگی کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے 10 ممالک پر مشتمل ’ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشیئن نیشنز (آسیان)‘ کے رہنماؤں کو ایک اجلاس میں بتایا کہ بیجنگ اپنے چھوٹے علاقائی پڑوسیوں کو نہیں ’دھمکائے‘ گا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے کئی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ سمندر پر علاقائی دعووں کے تنازع نے واشنگٹن سے ٹوکیو تک خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

تاہم شی جن پنگ نے کہا کہ چین کبھی تسلط نہیں کرے گا، نہ ہی چھوٹے ممالک کے مقابلے اپنے بڑے حجم سے فائدہ اٹھائے گا اور ’مداخلت‘ ختم کرنے کے لیے آسیان ممالک کے ساتھ کام کرے گا۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ’چین ہمیشہ ایک اچھا ہمسایہ، ایک اچھا دوست اور اچھا شراکت دار تھا اور ہے۔

چین کے بحیرہ جنوبی چین پر خودمختاری کے دعوے نے اسے آسیان کے رکن ویتنام اور فلپائن کے خلاف کردیا ہے جبکہ برونائی، تائیوان اور ملائیشیا بھی اس کے کچھ حصوں پر دعویٰ کرتے ہیں۔

چند روز قبل فلپائن نے چینی کوسٹ گارڈز کے 3 بحری جہازوں کے افعال کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سمندر میں فلپائن کے زیر قبضہ اٹول کی جانب بڑھنے والی ری سپلائی کشتیوں کا راستہ روکا اور ان پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔

امریکا نے چینی کارروائیوں کو ’خطرناک، اشتعال انگیز اور غیر منصفانہ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ فلپائنی بحری جہازوں پر مسلح حملہ امریکا کے باہمی دفاعی وعدوں کو متاثر کرے گا۔

فلپائن کے صدر روڈریگو دوترے نے چین کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں انہوں نے جھگڑے کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ اور کہا کہ قانون کی حکمرانی ہی تنازع سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے سال 2016 میں ایک ثالثی عدالت کے دیے گئے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ چین کے سمندر پر بحری دعوے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

فلپائنی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ ہماری اقوام کے درمیان تعلقات کے لیے مناسب نہیں ہے‘۔

خیال رہے کہ آسیان تنظیم میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام شامل ہے۔

میانمار کی کوئی نمائندگی نہیں

شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور آسیان نے سرد جنگ کے اندھیرے کو ختم کردیا تھا جب یہ خطہ سپر پاور کے مقابلے اور ویتنام کی جنگ جیسے تنازعات کی زد میں تھا، اور مشترکہ طور پر علاقائی سالمیت برقرار رکھی۔

ملائیشیا کے وزیر خارجہ سیف عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ مذکورہ اجلاس میانمار سے کسی نمائندگی کے بغیر ہوا۔

میانمار کی غیر حاضری کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکیں جبکہ میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان نے جواب لینے کے لیے کی گئی کالز کا جواب نہیں دیا۔

آسیان نے میانما کے فوجی سربراہ من اونگ لینگ آسیان کو متفقہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں ناکامی پر گزشتہ ماہ ورچوئل سمٹ سے الگ کر دیا جس کی اس پہلے مثال نہیں ملتی۔

میانمار نے ان سے کم درجے کی نمائندگی بھیجنے سے انکار کردیا تھا اور آسیان پر اپنے عدم مداخلت کے اصول سے ہٹنے اور مغربی دباؤ کا شکار ہونے کا الزام لگایا تھا۔

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ چین نے جنتا رہنما کی شرکت کے لیے لابنگ کی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button