کینیڈا

کوویڈ-19: کنگسٹن اسپتالوں پر دباؤ کا سبب بننے والے کیسز کی آمد

کنگسٹن کے علاقے میں ہر روز "درجنوں” کے ذریعے کوویڈ-19 کے نئے کیسز کی گنتی کے ساتھ کنگسٹن جنرل اسپتال (کے جی ایچ) میں بھی وائرس کے ساتھ بہت بیمار مریضوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

منگل کی صبح تک کنگسٹن ہیلتھ سائنسز سینٹر اپنی موجودہ آئی سی یو صلاحیت کا تقریبا 90 فیصد اور اپنے وینٹی لیٹرز کا تقریبا 35 فیصد مختلف حالات کے لیے استعمال کر رہا ہے جن میں کوویڈ-19 بھی شامل ہے۔

کے ایچ ایس سی کی الزبتھ بارڈن کا کہنا ہے کہ "بہت سے لوگوں کے علاوہ جو داخل ہیں اور کوویڈ سے بہت بیمار ہیں، ہم دیگر بیمار اور زخمی افراد کی ناقابل یقین حد تک زیادہ تعداد کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں داخلے کی ضرورت ہے۔”

تین ہفتے قبل کے ایچ ایس سی نے انکشاف کیا تھا کہ وہ کے جی ایچ میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور ہوٹل ڈیو اسپتال کے فوری نگہداشت مرکز میں ریکارڈ تعداد میں مریضوں کو دیکھ رہے ہیں۔

بارڈن کا کہنا ہے کہ "اس لیے ہم ان لوگوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں جو شاید اتنے احترام سے کام نہیں لے رہے جتنے ہم اپنے عملے کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو یہ یاد دلانا واقعی اہم ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دباؤ کا شکار ہیں لیکن ہماری ٹیمیں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔”

ہمیں مل کر شراکت داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور باہمی احترام اس کا ایک بڑا حصہ ہے۔

متعدی بیماری وں کے ماہر ڈاکٹر جیرالڈ ایونز کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسپتال کا عملہ کس حال سے گزر رہا ہے۔

"اسپتال میں لوگ تھکے ہوئے اور تھکے ہوئے ہیں۔ ایونز کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جو اسپتال میں کام کرتا ہے، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں تھوڑا تھکا ہوا اور تھوڑا تھکا ہوا ہوں۔ ہمیں چھٹیوں میں بھی تھوڑا سا وقفہ لینے کی ضرورت ہے، لیکن اگر اس دیکھ بھال کی حقیقی ضرورت ہے تو ہم ایسا نہیں کر سکتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button