پاکستان

موجودہ مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیزی سے بڑھ کر 15.2 ارب ڈالر ہو گیا 

موجودہ مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) تیزی سے بڑھ کر 15.2 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں صرف 1 ارب 18 کروڑ ڈالر تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے 61 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے جبکہ مئی کا خسارہ مارچ کے 1 ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔

پاکستانی معیشت ‘سی اے ڈی’ اور گرتے ہوئے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جس کے سبب روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ نے بیرونی کھاتے کو تباہ کر دیا ہے۔

اس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے پاس بین الاقوامی مارکیٹ سے ڈالر حاصل کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے اضافے کی اہم وجہ درآمدی بل کا بڑھنا ہے۔

موجودہ مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں درآمدی بل 75 ارب 74 کروڑ ڈالر کا ہو گیا جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 55 ارب 56 کروڑ ڈالر تھا۔

حکومت کا دنیا میں بڑھتی تیل کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جس کی طلب کورونا وائرس کے بعد تمام ممالک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد توانائی کی ضرورت کی وجہ سے بہت زیادہ ہے۔

لیکن بہت بڑے تجارتی خسارے کی وجہ صرف ایندھن کی زیادہ قیمتیں نہیں ہیں، موجودہ مالی سال کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں تیل کا درآمدی بل 17 ارب 92 کروڑ ڈالر رہا جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 9 ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔

پی ایم ایل (ن) کی اتحادی حکومت نے پُرتعیش اور 32 غیرضروری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائدکی تھی تاکہ درآمدی بل کو کم کیا جاسکے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس فیصلے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے اور تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

زیادہ تجارتی خسارے کی وجہ سے ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آئی جس کی وجہ سے موجودہ مالی سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 24 فیصد گراوٹ ہوئی ہے۔

حکومت گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے چین سے 2.3 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب رہی، لیکن میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چین کا قرضہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے پہلے کے مقابلے میں مہنگا ہے۔

پاکستان کا مالیاتی شعبہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے منعقد کردہ برکس کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے اسلام آباد کو روک دیا گیا ہے جس کے اراکین برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں۔

حالانکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اچھے تعلقات کا اعلان کیا ہے تاہم مالیاتی شعبہ اس اہم علاقائی ڈیولپمنٹ کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

برکس ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ چین نے اس ایونٹ میں 13 ممالک کو دعوت دی ہے، اس اقدام کو بیجنگ کی طرف سے 5 ممبر گروپ میں اضافے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس اجلاس کو ‘برکس۔پلس’ کہا جارہا ہے، جس میں الجزائر، ارجنٹائن، کمبوڈیا، مصر، ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، ایران، قازقستان، ملائیشیا، سینیگال، تھائی لینڈ اور ازبکستان کو مدعو کیا گیا ہے۔

چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ تجارت بیجنگ کے حق میں ہے، موجودہ مالی سال 2022 کے جولائی تا مئی کے درمیان چین سے 15 ارب 69 کروڑ ڈالر کی درآمدات کی گئیں جو پچھلے سال کے 11 ارب 45 کروڑ ڈالر تھیں۔

پاکستان کی چین کو درآمدات میں اضافے کی شرح انتہائی کم ہے جوکہ پچھلے سال کے 1.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.5 ارب ڈالر رہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
adana eskort - eskort adana - mersin eskort - eskort mersin - eskort - adana eskort bayan - eskort bayan adana - mersin eskort bayan