دنیا

فورڈ موٹر کا بھارت میں اربوں ڈالر نقصان، مینوفیکچرنگ ختم کرنے کا اعلان

فورڈ گجرات میں 2021 کے آخر جبکہ چنائی میں 2022 تک پلانٹ بند کردے گی

فورڈ موٹر کمپنی بھارت میں اپنی مینوفیکچرنگ ختم کررہی ہے اور اس کے نتیجے میں معیشت کو 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا جبکہ حالیہ عرصے میں بھارت چھوڑ کر جانے والی بڑی آٹو کمپنی ہوگی۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق فورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ بھارت میں صارفین کی توجہ حاصل کرنے اور منافع کے حصول کے لیے برسوں سے تگ و دو کے بعد کیا گیا ہے۔

کاربنانے والی مشہور کمپنی 25 سال قبل بھارت آئی تھی لیکن مارکیٹ میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ ڈال سکی۔

فورڈ نے بیان میں کہا کہ بھارت میں گزشتہ 10 برسوں میں 2 ارب سے زائد نقصان ہوا اور نئی گاڑیوں کی طلب میں بھی کمی تھی۔

فورڈ انڈیا کے سربراہ انوراگ مہروٹرا نے کہا کہ ہماری کوششوں کے باوجود ہم طویل مدتی منافع کے حصول میں کامیاب نہیں ہوپائے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے جاری نقصان، مارکیٹ میں صلاحیت سے گنجائش اور بھارت کی کار مارکیٹ میں متوقع نمو میں کمی کے بعد فیصلے پر مجبور ہوئے۔

اس سے قبل امریکا کار ساز کمپنی جنرل موٹرز اور ہارلے ڈیوڈسن بھی بھارت سے جاچکی ہیں، بھارت کی مارکیٹ میں کسی زمانے میں بڑی طلب تھی اور اب یہاں سوزوکی موٹر کارپوریشن اور ہنڈائی موٹر کی کم قیمت گاڑیوں کی مانگ ہے۔

منصوبے کے مطابق فورڈ انڈیا مغربی ریاست گجرات کے علاقے سیناند میں 2021 کے اواخرتک اپنا کارخانہ بند کردے گی اور اسی طرح چنائی میں جنوبی بھارت میں انجن کی تیاری کا پلانٹ 2022 تک بند کردےگی۔

فورڈ جیسی امریکی کمپنی اب درآمدات کے ذریعے بھارت میں اپنی کاریں فروخت کرے گی اور اپنے موجودہ صارفین کو ڈیلرز کے سہارے خدمات جاری رکھے گی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی کے اس فیصلے سے بھارت میں ایک اندازے کے مطابق 4 ہزار ملازمین متاثر ہوں گے۔

فورڈ کی جانب سے بھارت میں اپنی کارسازی کے عمل کو ختم کرنے کی ایک وجہ مقامی کمپنی مہیندرا اینڈ مہیندرا کے درمیان جوائنٹ وینچر طے پانے میں ناکامی بھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر یہ معاہدے طےپاجاتا تو فورڈ کم لاگت پر گاڑیاں بنانے پر کام جاری رکھتی لیکن اپنے آزادانہ آپریشنز بند کر دیا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ پرڈکشن بند کرنے کا فیصلہ شراکت داری، پلیٹ فارم شیئرنگ، پیداوار میں مینوفیکچرنگ کنٹریکٹ اور مینوفیکچرنگ پلانٹس کی فروخت کے امکان پر غور کے بعد کیا گیا تاہم اس حوالے سے اس وقت بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button