تجارتکینیڈا

سی آر ای اے: گھروں کی قیمتوں میں اضافے اور فروخت میں کمی کی پیش گوئی

سپلائی کے سخت حالات اور گھروں کی قیمتوں میں اضافے نے کینیڈین رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کو یہ پیش گوئی کرنے پر مجبور کیا کہ ملک میں پہلے جاری کی گئی پیش گوئی سے کم گھروں کی فروخت کے ساتھ سال کا اختتام ہوگا۔

ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز ایک تازہ ترین پیش گوئی کی جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رواں سال 656,300 گھر فروخت ہو نگے جو 2020 کی سطح سے تقریبا 19 فیصد زیادہ ہے لیکن اس سال کے اوائل میں اس کی پیش گوئی کردہ 682,900 سے تقریبا چار فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ جس ریکارڈ قائم کرنے کی پیش گوئی کر رہا ہے وہ نیچے کی طرف نظر ثانی ہے کیونکہ اس موسم بہار میں فروخت میں توقع سے زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے، لیکن یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امیگریشن کی سطح میں تیزی آرہی ہے اور وبا کے دوران بند ہونے والے کینیڈین کاروباروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

سی آر ای اے کی نئی پیش گوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اوسط گھر کی قیمت اب رواں سال 6 لاکھ 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو گزشتہ سال کی اوسط قیمت سے19.9 فیصد زیادہ ہے۔

اس سے قبل جون میں جاری ہونے والی پیش گوئی میں 2021 کے لئے اوسط قیمت تقریبا 678,000 ڈالر ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

جبکہ سی آر ای اے کو توقع ہے کہ اگلے سال قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد اضافہ ہو کر تقریبا 7لاکھ 18ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گا تاہم وہ پیش گوئی کر رہا ہے کہ 2022 میں گھروں کی فروخت 12.1 فیصد کم ہو کر 5 لاکھ 77 ہزار کے لگ بھگ رہ جائے گی۔

سی آر ای اے کی نئی پیش گوئی اسی وقت جاری کی گئی تھی جب تنظیم نے اگست کے ہاؤسنگ ڈیٹآ کو ریلیز کیا تھآ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ اوسط قیمت 680,815 ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو جولائی میں 669,654 ڈالر تھی۔

سی آر ای اے نے کہا کہ موسمی طور پر ایڈجسٹ شدہ گھروں کی فروخت اگست میں 0.5 فیصد کم ہوکر 48,379 ہوگئی جو جولائی میں 48,624 تھی۔

غیر موسمی طور پر ایڈجسٹ کی بنیاد پر گزشتہ ماہ گھروں کی فروخت 50,876 رہی جو گزشتہ اگست کے 59,172 کے برابر 14 فیصد کم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button