کینیڈا

فرسٹ نیشنز کمیونٹیز میں پینے کے صاف پانی کی کمی کا کوئی بہانہ قابل قبول نہیں: سنگھ

این ڈی پی رہنما جگمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ لبرلز کی جانب سے فرسٹ نیشنز کمیونٹیز میں پینے کے پانی کی تمام ایڈوائزری اٹھانے کے اپنے 2015 کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکامی کا کوئی بہانہ قابل قبول نہیں ہے۔

تھنڈر بے سے تقریبا 230 کلومیٹر شمال مغرب میں سیوکس لک آؤٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ وہ اس بات کو مسترد نہیں کر رہے ہیں کہ دیہی برادریوں تک پہنچنا مشکل ہے لیکن کینیڈا کی دولت اور ٹیکنالوجی پینے کے پانی کی باقی تمام ایڈوائزری اٹھانے کے لئے کافی ہے۔

سنگھ نے کہا کہ ان مقامی لوگوں کو پینے کے پانی کے بنیادی انسانی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ "یہ بات بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے.”

نیسکانتگا فرسٹ نیشن کے سربراہ وین مونائیس نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ان کی کمیونٹیز ایک ماہ میں دوسری بار سنگھ کا خیرمقدم کریں گی تاکہ 26 سالہ واٹر ایڈوائزری کے کمیونٹی کے حالات پر پڑنے والے اثرات کا براہ راست جائزہ لیا جاسکے۔

2015 میں ٹروڈو نے مارچ 2021 تک پینے کے پانی کی تمام طویل مدتی ایڈوائزری اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کی حکومت نے دسمبر میں تسلیم کیا تھا کہ پانچ سال میں پینے کے پانی کی 100 سے زائد طویل مدتی ایڈوائزری اٹھانے کے باوجود آخری تاریخ تک صاف پانی کی فراہمی کام مکمل نہیں ہو پائے گا۔

مارچ میں لبرل حکومت نے کہا تھا کہ وہ تمام ایڈوائزری ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن وہ کوئی نئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کرے گی کیونکہ فرسٹ نیشنز کی 33 کمیونٹیز میں پینے کے پانی کی 52 طویل مدتی ایڈوائزری اب بھی موجود ہیں۔

سنگھ نے اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی کہ وہ لبرلز کے مقابلے میں پینے کے پانی کی بقیہ ایڈوائزری کو زیادہ تیزی سے کیسے ختم کریں گے، لیکن انہوں نے کہا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو اسے ترجیح دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وسائل کے معاملے میں جی سیون کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ ٹیکنالوجی تک رسائی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ وسائل تک رسائی کا سوال نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button