دنیا

اسرائیلی جیلوں میں قید ’فلسطینی اسلامی جہاد‘ کے اراکین کا بھوک ہڑتال کا اعلان

فلسطینی قیدیوں کو ان کی سیاسی وابستگی کے مطابق سیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے

فلسطینی اسلامی جہاد تحریک نے گزشتہ ماہ گلبوہ جیل سے 6 فلسطینیوں کے فرار ہونے کے بعد ان پر عائد کیے جانے والے تعزیراتی اقدامات مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی جیلوں میں بند اپنے قیدیوں کی جانب سے اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو ان کی سیاسی وابستگی کے مطابق سیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

زیادہ تر قیدی جو اسلامی جہاد سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی تعداد تقریباً 400 ہے جبکہ دیگر تمام دھڑوں کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کی گئی ہے۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب کے ایک بیان کے مطابق بھوک ہڑتال ’حال ہی میں قیدیوں کی نیشنل ایمرجنسی کمیٹی کے اعلان کردہ مزاحمتی پروگرام کا حصہ ہے، جو بنیادی طور پر بغاوت اور جیل انتظامیہ کے قوانین کو مسترد کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جہاد کے قیدیوں نے منگل کو اسرائیلی جیل انتظامیہ کو ایک مراسلہ پہنچایا جس میں ان کے مطالبات کا تذکرہ تھا اور ساتھ ہی انہیں بھوک ہڑتال سے متعلق اپنے فیصلے سے بھی آگاہ کیا تھا۔

اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 4 ہزار 600 فلسطینی قیدی ہیں جن میں 35 خواتین اور 200 بچے بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل کی محفوظ ترین اور بہترین سیکیورٹی کی حامل جیل سے 6 فلسطینی قیدی سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

تاہم ستمبر کے وسط میں ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ جیل سروس نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ فرار افراد کے گروپ میں زکریا زبیدی بھی شامل ہیں جو اقصیٰ شہدا بریگیڈ کے ممتاز سابق رہنما ہیں اور مرحوم فلسطینی رہنما اور سابق صدر یاسر عرفات کی فتح سیاسی تحریک کا حصہ تھے۔

گرفتار افراد میں 35 سالہ ایہام کمام جی اور 26 سالہ مُنادل انفیات شامل تھے جن کا تعلق تحریک ‘اسلامک جہاد’ سے ہے۔

اسلامک جہاد نے دوبارہ گرفتاری پر ردعمل میں اپنے ‘ہیروز’ کی تعریف کی تھی اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ فلسطینی عوام کسی صورت اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button