پاکستان

سندھ: بدعنوانی کے مرتکب 27 سرکاری افسران کی تعیناتی پر عدالت کا حکومت پر اظہارِ برہمی

عدالت نے انہیں 9 نومبر تک اپنے فوکل پرسن کے ذریعے بیان داخل کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے مختلف سرکاری محکموں کے کلیدی عہدوں پر 27 سزا یافتہ افسران کو تعینات کرنے پر صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے سزا یافتہ 27 افسران کو 17 اور اس سے زائد گریڈ کے عہدوں پر فائز کیا تھا۔

عدالت نے صوبائی حکومت کے تمام محکموں کے سیکریٹریز کو خبردار کیا کہ سزا یافتہ عہدیداروں کی تعیناتی کے حوالے سے دوبارہ ایسی غیر قانونی حرکت نہ کی جائے۔

عدالت نے انہیں 9 نومبر تک اپنے فوکل پرسن کے ذریعے بیان داخل کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔

سماعت کے آغاز میں مختلف محکموں کے سیکریٹری اور فوکل پرسنز نے شرکت کی اور جسٹس صلاح الدین پنہوار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ڈائریکٹر کو سزا سنائی گئی تھی لیکن ڈائریکٹر اسکول کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 10 سزا یافتہ افسران محکمہ ریونیو اور ایک محکمہ جنگلات میں تعینات تھے اور انہیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

اسی طرح محکمہ لوکل گورنمنٹ کے 3، محکمہ آبپاشی کے 7 اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ایک سزا یافتہ افسر کو ہٹا دیا گیا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (ایس جی اے اور سی ڈی) کے کین کمشنر سمیت 2 افسران کو مجرم ٹھہرایا گیا اور انہیں ہٹا دیا گیا جبکہ محکمہ لیبر کے ایک سزا یافتہ افسر کو بھی بر طرف کردیا گیا۔

بینچ کو بتایا گیا کہ ایک پولیس اہلکار کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے جس پر سندھ پولیس کے فوکل پرسن نے بتایا کہ جب تک اس کی سزا کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا اسے تعینات نہیں کیا جائے گا۔

ایڈیشنل سروسز سیکریٹری نے بینچ کو یقین دلایا کہ تمام سزا یافتہ افسران چاہے ضمانت پر رہا ہو جائیں کسی بھی محکمے میں تعینات نہیں ہوں گے۔

بینچ نے ریماکس دیے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ‘بدعنوانی’ کے الزامات میں سزا کے باوجود حکومت نے 17 اور اس سے اوپر کے گریڈ کے عہدوں پر 27 افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا۔

اس نے مزید کہا گیا کہ اس طرح کی ذمہ داریاں ہمیشہ حکومت پر عائد ہوتی ہیں کہ وہ عوام کو یہ یقینی بنائے کہ وہ افسران جو اپنے حقوق کے ساتھ کام کر رہے ہیں نہ صرف قابل بلکہ ایماندار بھی ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ایسی ذمہ داریوں میں ناکامی نے عدالت کو احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button