پاکستان

فوجی اداروں کے سربراہان کے خلاف نعرے قومی مفاد کے خلاف ہیں، اجازت نہیں ہونی چاہیے، شہباز شریف

شہباز شریف نے کہا ہم کمربستہ ہوچکے ہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوامی جلسوں میں فوج کے اداروں کے سربراہان کے خلاف نعرے لگانا نہ صرف قومی مفاد کے خلاف ہے بلکہ اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے پنجاب کے دور دراز علاقوں میں یتیم اور غریب بچوں کے لیے دانش اسکول بنائے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا صرف ایچیسن کالج میں امرا کے بچے تو جاسکتے لیکن ذہین اور محنتی یتیم بچوں کے لیے اس کے دروازے بند ہیں جبکہ میں نے دانش اسکول شروع کیا تو اشرافیہ کی طرف سے تنقید کے نشتر برسائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ دانش اسکول میں آج ہزاروں غریب اور یتیم بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور حالیہ امتحانات میں دانش اسکول کے بچوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی ہیں۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں پارٹی نے ایچیسن کالج کے ہم پلہ اعلیٰ ترین درسگاہیں بنائی ہیں، ہم ہیروز اور ایٹن غریبوں کے لیے بنائے اور غریب بچوں کے لیے دانش اسکول واحد چھت ہے اور ہمارے دور میں ان کے لیے کھانا، ادویات کا انتظام تھا اور یونیفارم ملتا تھا۔

‘مہنگائی پاکستان کا نمبرون مسئلہ ہے’

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی اس وقت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے اور اس کمر توڑ مہنگائی کے خلاف اپوزیشن کمربستہ ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں مہنگائی نے عوام کا برا حال کردیا ہے، بے روزگاری عروج پر ہے اور عام آدمی کو اپنا گزارہ کرنا مشکل ہورہا ہے، آئے دن مہنگائی کے بم عوام پر گرائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں رپورٹ دیکھی کہ سلیکٹڈ وزیراعظم 80 افراد کا وفد کے ساتھ سعودی عرب گئے ہیں، انہوں نے کس کس موقع پر یوٹرن نہیں لیا، کہا کرتے تھے اگر مہنگائی ہوجائے تو سمجھ لیجیے گا وزیراعظم اور حکومت کرپٹ ہے۔

شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے تھے اگر ڈالر کے مقابلے میں ایک روپیہ سستا ہوجائے تو سمجھ لیے حکومت اور وزیراعظم کرپٹ ہے، بجلی اور تیل مہنگا ہوجائے تو حکومت کرپٹ ہے۔

‘ہمارا قافلہ نکل چکا ہے’

ان کا کہنا تھا کہ اب اس حکومت کو نہ عوام برداشت کریں گے اور نہ کوئی مزید برداشت کرے گا، ہمارا قافلہ نکل چکا ہے، اس حکومت کو عوام کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کرکے دم لیں گے۔

ڈینگی کے مریضوں میں اضافے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے ماہر ڈاکٹر نے جب ہمیں بتایا کہ اس سے 25 ہزار اموات ہوسکتی ہیں تو اتنا خوف ہوا کہ رات کو مجھے نیند نہیں آئی اور اللہ سے گڑ گڑا کر دعا کی کہ ہمیں طاقت دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر جگہ گئے، اسپرے کیے، اسکولوں اور دیگر جگہوں پر پانی کھڑا نہیں ہونے دیا اور مچھر پیدا نہیں ہونے دیے اور پھر ماہرین کو ہر جگہ بھجوایا اور ڈاکٹروں کی تربیت کی، 100 ڈاکٹر اور نرسز کو باہر بھجوایا اور ان کو پوری تربیت دلوائی، جس پر کروڑوں روپے خرچ آیا جبکہ ڈینگی کے ٹیسٹ کے لیے 90 روپے مقرر کیے اور اس کے لیے تمام لیبارٹریوں کو پابند کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلاتفریق 90 روپے مقرر کیے اور جو خلاف ورزی کرتا تھا اس کو تھانے بھیجوادیا، سیٹلائٹ لیبارٹریز بنوائیں اور ہسپتالوں میں مفت علاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حکومت نے ایک پروٹوکول بنایا تھا اور اس کی کتاب موجود ہے، جس میں تمام چیزیں درج ہیں۔

‘فیصل آباد میں نعرے لگانے والے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں’

شہباز شریف نے فیصل آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں لگائے گئے نعروں کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ‘ہمارا خطہ ایک مرتبہ پھر بدقسمتی سے ایک نئی سرد جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، افغانستان ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے اور پوری قوم کی دعا ہے افغانستان میں امن قائم ہو اور خوش حالی ہو’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں جو حکومت آئی ہے وہ اقدامات کرے اگر وہاں خوش حالی ہوگی، امن قائم ہوگا تو اس کا فائدہ پاکستان اور پورے خطے کو ہوگا، یہ بات طے ہے کہ مسلم لیگ (ن) سمیت پوری قوم پاکستان کو کسی بھی بین الاقوامی سازش کا حصہ بننے نہیں دے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پوری قوم یکسو ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کے دفاع پر ہم آنچ نہیں آنے دیں گے’۔

شہباز شریف نے کہا کہ ‘بین الاقوامی تناظر میں فیصل آباد میں نعرے جس نے لگائے اس کا ہماری پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ وہ ہماری پارٹی کا کارکن ہے، نہ وہ ہماری پارٹی کا عہدیدار ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں خود تردید کہنا چاہتا ہوں اور اس بات کو پھر دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ شخص نہ ہماری پارٹی کا کارکن اور عہدیدار ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی بھی ملک کے دفاع، سلامتی اور امن کے لیے ایک مضبوط فوج، ایک پیشہ ورانہ فوج لازم و ملزوم اور جزو لاینفک ہے کہ پاکستان کے دفاع، امن اور سلامتی کے لیے مضبوط اور ایک پیشہ ور فوج ایک بنیادی بات ہے’ ۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ‘ادارے کے اندر تعیناتیاں اور تبدیلیاں ہونا اس ادارے کے روٹین کا کام ہے، اس پر ہمیں کسی کو مداخلت کی نہ ضروت ہے، نہ ہوئی اور ہونی بھی نہیں چاہیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘البتہ یہ ضرورت ہے کہ اس تناظر میں افواج پاکستان کے اداروں کے سربراہان اور افواج پاکستان کے جو بھی ادارے ہیں، ان کے سربراہان کے خلاف عوامی جلسوں میں نعرے لگانا نہ صرف قومی مفاد کے خلاف بلکہ اس کی قطعاً کوئی اجازت نہیں ہونی چاہیے’۔

‘پارلیمنٹ کو حکومت نے لاک کردیا’

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘پارلیمنٹ ہی ہے جو آئین کی حکمرانی کی ضمانت ہوتی ہے، پارلیمنٹ ہے جہاں تمام موضوع زیر بحث لائے جاتے ہیں، پارلیمنٹ ہی ہے جہاں خارجہ اور داخلہ کے معاملات، مہنگائی اور بے روزگاری پر بات ہوتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پارلیمنٹ ہی ہے جہاں قانون سازی ہوتی ہے لیکن سوا 3 سال ہوگئے اس حکومت نے پارلیمنٹ کو لاک کر رکھا ہے، ہر چیز صدارتی آرڈیننس سے چلائی جارہی ہے، اس قوم کی شومئی قسمت ہے کہ ایک ایسا سلیکٹڈ وزیراعظم آیا جس نے جمہوریت سے لے کر صحافت اور عوام کی آزادی پر قدغن لگادی، ملک کی معیشت کو برباد کردیا، آج ڈالر 175 روپے کی اڑان پر ہے لیکن اس کے پروں کو نہیں کترا گیا’۔

شہباز شریف نے کہا کہ ‘اگر خدانخواستہ یہی حالت رہی اور امپورٹڈ مہنگائی اس نے اسی طرح تباہی مچا رکھی تو پھر ہم سب اکٹھے ہوجائیں تو خدا نخواستہ پاکستان کو اس تباہی سے نہیں بچاسکیں گے’۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘آج پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ ایک بڑا صحت مند گراؤنڈ ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور اپنے جوہر دکھائیں گے’۔

شہباز شریف نے کہا کہ ‘مجھے پورا یقین ہے کہ عمران احمد نیازی کے تمام تر یوٹرنز کے باوجود کرکٹ بورڈ میں اور دوسری جو حرکات کی ہیں، اس کے باوجود آج اللہ جیت پاکستان اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دے گا اور رات کو ہم مٹھائیں کھائیں گے، ان شااللہ’۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button