پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پارٹی اکاؤنٹس کا جائزہ لینے کی اجازت دے دی

فرخ حبیب نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو التوا کے پیچھے چھپتے ہیں—

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب کی درخواست منظور کر تے ہوئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پارٹی اکاؤنٹس کا جائزہ لینے کی اجازت دے دی۔

اس حوالے سے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کے فنانشنل ماہرین اور چارٹرڈ اکاؤنٹٹینٹ دونوں سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کر سکیں گے اور آنے والے دنوں میں ہوشربا انکشافات ہوں گے کیونکہ مسلم لیگ (ن) اپنے اکاؤنٹس چھپانا چاہتی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) مافیا سے اپنے مفادات کے لیے پیسے لیتی ہے اور اب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو معلوم ہو گا کہ ان کی پارٹی کے کتنے جعلی اکاؤنٹس ہیں۔

فرخ حبیب نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو التوا کے پیچھے چھپتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال ہوئے جس کے بارے میں تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) 4 برس اکاؤنٹس کی تفصیل دینے سے بھاگتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق پیپلز پارٹی کے 7، مسلم لیگ (ن) کے 12 اکاؤنٹس ہیں۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھا ہے اور دونوں اسی گڑھے میں گر گئے جہاں ہمیں گرانا چاہتے تھے۔

سرکاری خبررساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع کرانے والے لوگ کون ہیں؟ جب چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹس پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ہیں۔

فرخ حبیب نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس تک رسائی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں نے اپنے پارٹی اکاؤنٹس تک رسائی کی شدید ترین مخالفت کی تھی، آج الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ان کو شکست ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں درج کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے میری حکومت کو گرانے کے لیے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے تھے، بلاول بھٹو زرداری کو اب پتا چلے گا کہ ان کے پارٹی کے کتنے جعلی اکاؤنٹس ہیں۔

اگر دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی بات کی جائے تو ای سی پی نے پتا لگایا تھا کہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے غیر اعلانیہ بینک اکاؤنٹس رکھے ہوئے ہیں۔

یہ انکشاف اسکروٹنی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف فارن فنڈنگ کیسز کی سماعت کے دوران ہوا تھا۔

دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن سے 12 بینک اکاؤنٹس چھپائے اور انہیں ای سی پی کے فارم ون میں ظاہر نہیں کیا جہاں آمدن اور ذرائع آمدن بتانے ہوتے ہیں۔

الیکشن کمیشن میں دو علیحدہ شکایتیں درج کرائی گئی تھی، جس میں پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب نے الزام لگایا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے فنڈز کے ذرائع اور امریکا اور برطانیہ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی معلومات کو چھپایا ہے، لہٰذا انتخابی نشان کے حصول کے قانونی تقاضوں پر پورا نہ اترنے پر ان کے دیئے گئے نشانات ختم کیے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button