پاکستان

حکومت نے 700 پی ٹی آئی رہنماؤں اور لوگوں کی گرفتاری کا منصوبہ بنالیا، فواد چوہدری کا الزام

فواد چوہدری نے کہا کہ 25 مارچ کو عمران خان بڑی ریلی کے ہمراہ پشاور سے اسلام آباد آئیں گے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 700 پی ٹی آئی رہنماؤں اور لوگوں کی گرفتاری کا منصوبہ بنالیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح سے ایک سازش کے تحت حکومت کو ہٹایا گیا، اگر آپ کی خارجہ پالیسی اس قدر بے بس ہیں تو پھر اس کو آپ آزادی نہیں کہہ سکتے، اس لیے سیاست اور اقتدار کے معاملات کو الگ رکھتے ہوئے سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنی آزادی حاصل کرنی ہے، عوام کو اپنے ووٹوں کے ذریعے حکومت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے، اس سے پاکستان کا اقتدار اعلیٰ بحال ہوگا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر آج ہم یہ حقیقی ازادی مارچ نہ کریں تو خدشہ ہے کہ ہماری ازادی ہمیشہ کے لیے قابل سمجھوتہ ہوجائے گی جو ہم کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے قتل میں ملوث، منشیات کے مقدموں میں ملوث وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ ہم گرفتاریاں کریں گے اور لوگوں کو روکیں گے۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو روکنے کے لیے جہلم اور گجرات کے پل پر اب تک سیکٹروں کنٹینر پہنچا دیے گئے ہیں، جہلم اور دریائے چناب کا پل بند کرنے کا ارادہ ہے، اسی طرح اٹک پل پر بھی بڑی تعداد میں کنٹینیر پہنچائے گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گرفتاریوں کا بھی منصوبہ ہے، 700 پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاری کا کہا جارہا ہے۔

‘لوگوں کو ڈرایا، دھمکایا جا رہا ہے’

ان کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا اور سوشل میڈیا کے کارکنوں پر جعلی مقدمے درج کیے جار ہیں، ان کو اٹھایا جا رہا ہے، ہماری پارٹی کی رہنما شیریں مزاری کو حراست میں لیا گیا، ان پر جعلی پرچے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح 700 رہنماؤں اور لوگوں کو جعلی مقدمات میں نامزد کرنے کی تیاری ہے لیکن یہاں میں خبردار کردوں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ اراکین اسمبلی، عوامی عہدے رکھنے والے افراد کی گرفتاری کے سلسلے میں طے شدہ طریقہ کار اختیار کرنا لازمی ہے اور جو یہ طریقہ اختیار نہیں کرے گا وہ توہین عدالت کا مرتکب قرار پائے گا۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گھروں پر جا کر لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، بغر وردی کے لوگ لوگوں کو اٹھا رہے ہیں، ان کے گھروں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے، ہمارے کئی نوجوانوں کو ایف آئی اے نے اٹھایا، گرفتار کیا جن کی ہم نے ضمانتیں کرائیں.

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیئنر ترین صحافیوں، ارشد شریف، سمیع ابراہیم، صابر شاکر اور عمران ریاض خان پر جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

فواد چوہدری نے حکومت پر مختلف میڈیا چینلز کے مالکان کو دھمکیاں دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چینلز کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر انہوں نے سینسرشپ کو قبول نہ کیا اور اپنی پالیسی کو تبدیل نہیں کیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے، اس پر میں دلیری کے ساتھ کھڑے ہونے والے میڈیا چینلز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس سینسرشپ کو قبول نہیں کیا۔

‘کراچی میں سب سے بڑا انقلاب آئے گا ‘

ان کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کو چیئرمین پی ٹٰی آئی عمران خان ایک بہت بڑی ریلی کے ہمراہ پشاور سے اسلام آباد آئیں گے اور اسلام آباد میں ہمارا قیام سیر نگر ہائی وے پر ہوگا جہاں ہم بھارتی غیر قانونی حراست میں موجود حریت رہنما یٰسین ملک سے بھی اظہار یکجہتی کریں گے، کشمیر کی ازادی ہمارے حقیقی آزادی مارچ کا لازمی حصہ ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما کہنا تھا کہ حکومت کو عقل کے ناخن لینے چاہییں، میں حکومت میں شامل جماعتوں کی سینئر قیادت کو کہنا چاہتا ہوں کہ گیڈر بھبکیوں سے معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے، پی ٹی آئی ملک کی بڑی واحد وفاقی جماعت ہے، اسلام آباد آنے کی کال صرف پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ہے، بلوچستان میں کوئٹہ اور سندھ میں حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی کو اسلام آباد بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کراچی میں سب سے بڑا انقلاب آئے گا اور کراچی کے لوگ اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہم نے جلسہ کرنا ہے، جلوس نکالنا ہےیا کیا کرنا ہے یہ آئندہ کی حکمت عملی عمران خان اسلام آباد آکر 3 تاریخ کو بتائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب اور کے پی سے لاکھوں لوگوں کے آنے والے سونامی کو روکا نہیں جا سکتا، اس حقیقی آزادی مارچ میں خواتین، بچے، اساتذہ، ریٹائرڈ فوجی، سابق پولیس اہلکار، ان کے خاندان، آرمی کے سابق جنرل کے خاندانوں سمیت ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں گے اور انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو اس سے معاشرے میں تلخیاں مزید بڑھے گیں۔

‘حکومت کو مزید 40 دن نہیں دے سکتے’

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں ذمے دارلوگوں نے بتایا ہے کہ ہم پر مارچ کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، مجھے امید ہے کہ بہت سارے لوگ استعفٰی دے دیں گے مگر حکومت کے گالی چلانے، آنسو گیس چلانے جیسے احکامات کو نہیں مانیں گے اور جو حکومت کے بھرتی کردہ گلوبٹ ہیں وہ بھی احتیاط کریں، ان کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ اس مارچ کو روک سکیں، ہمارے پر امن مارچ کو ہونے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 40 دنوں میں ملک کا جو حشر کردیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہم اس حکومت کو مزید 40 دن نہیں دے سکتے، حکومت اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرے، اصف زرداری کی موجاں لگی ہوئی ہیں، بیٹا ایک دن امریکا جاتا ہے، اگلے دن سوئٹزرلیںڈ جاتا ہے جب کہ ساری وزارتیں انور مجید کو دے دی ہیں مگر پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دیوالیہ ملک ملا تھا، کورنا کے باوجود ہم نے اس کی شرح نمو کو 6 فیصد کے قریب لے گئے، دنیا کے ممالک چین، سعودیہ عرب، یو اے ای ہمارے ساتھ کھڑے تھے، وہ ممالک آج اس حکومت کے ساتھ نہیں کھڑے، وہ جانتے ہیں کہ ملک کے عوام اس حکومت کے ساتھ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں تحریک لبیک کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک غیر قانونی تھی، اس میں تشدد تھا ، مذہبی انتہا پسندی تھی، اس لیے ہماری خالص سیاسی تحریک کو مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر چلائی جانے والی تحریک سے جوڑ نا بد نیتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، پشاور میں پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ کا فیصلہ کرلیا ہے، 25 مئی کو دن 3 بجے اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر ملوں گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
adana eskort - eskort adana - mersin eskort - eskort mersin - eskort - adana eskort bayan - eskort bayan adana - mersin eskort bayan